مرکزی مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

آج سے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ بند، صرف ای پاسپورٹ جاری ہوگا

اسلام آباد: ملک بھر میں آج سے نئے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس کا اجرا بند کر دیا گیا ہے۔ اب شہریوں کو صرف جدید ای پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے اس حوالے سے تمام پاسپورٹ دفاتر اور بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

نئے نظام کے تحت 14 اکتوبر تک مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کے لیے درخواستیں وصول کی گئیں۔ 15 اکتوبر یا اس کے بعد موصول ہونے والی تمام درخواستیں صرف ای پاسپورٹ کے لیے قبول کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق اندرون ملک اور بیرون ملک، دونوں جگہ یکساں ہوگا۔

جن شہریوں کے پاس پہلے سے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ موجود ہیں، انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کا پاسپورٹ اپنی مقررہ میعاد تک مکمل طور پر قابل استعمال رہے گا۔ تاہم میعاد ختم ہونے پر اس کی تجدید نہیں ہوگی بلکہ اس کی جگہ ای پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔

ای پاسپورٹ ایک جدید سفری دستاویز ہے جس میں ایک کانٹیکٹ لیس الیکٹرانک چپ نصب ہوتی ہے۔ اس چپ میں پاسپورٹ رکھنے والے کا بائیومیٹرک ڈیٹا، چہرے کی تفصیلات، شناختی نمبر اور ڈیجیٹل دستخط محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ پاسپورٹ بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور اس کے حامل افراد دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر ای گیٹس کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں، جس سے امیگریشن کے عمل میں وقت کی بچت ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ای پاسپورٹ کی جانب منتقلی کا مقصد جعلی پاسپورٹس اور دھوکا دہی کا خاتمہ ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جون 2026 میں پاسپورٹ ہیڈکوارٹرز میں اجلاس کے دوران ملک کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ نظام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ای پاسپورٹ کے لیے درخواست کا طریقہ کار بڑی حد تک روایتی پاسپورٹ جیسا ہی ہے اور مطلوبہ دستاویزات بھی بنیادی طور پر وہی ہیں۔ فیس کے حوالے سے 36 صفحات کے 5 سالہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 9 ہزار روپے اور ارجنٹ فیس 15 ہزار روپے مقرر ہے۔ 36 صفحات کے 10 سالہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 13 ہزار 500 روپے اور ارجنٹ فیس 22 ہزار 500 روپے ہے، جبکہ 72 صفحات کے 5 سالہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 16 ہزار 500 روپے اور ارجنٹ فیس 27 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

ذرائع: ڈیلی پاکستان، اے آر وائی نیوز، اے بی این نیوز، سماء