مرکزی مواد پر جائیں
ہفتہ، 17 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، 21.47 ارب ڈالر ہوگئے

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 9 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر بڑھ کر 21.469 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

زرمبادلہ کے ذخائر کسی بھی ملک کے مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی کرنسی کے وہ اثاثے ہوتے ہیں جنہیں بیرونی ادائیگیوں، درآمدات اور کرنسی کے استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ذخائر کی سطح کو معیشت کی بیرونی ادائیگی کی صلاحیت کا ایک اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے ہر ہفتے جاری ہونے والے اعداد و شمار پر کاروباری حلقوں اور معاشی ماہرین کی نظر رہتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اسی ہفتے کے دوران پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.863 ارب ڈالر رہے۔ اس مجموعی رقم میں مرکزی بینک کے ذخائر کے ساتھ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر بھی شامل ہیں۔ کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ ذخائر 5.39 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ہفتے مجموعی ذخائر میں مرکزی بینک اور کمرشل بینکوں دونوں کے حصے شامل تھے، اور مرکزی بینک کے ذخائر میں آنے والا اضافہ محدود رہا۔ ایک ہفتے کا یہ معمولی اضافہ بذات خود کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ زرمبادلہ ذخائر میں ہفتہ وار اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے اور یہ بیرونی آمد و ادائیگی کے بہاؤ کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے نزدیک ذخائر کی اصل تصویر کسی ایک ہفتے کے اعداد سے نہیں بلکہ مسلسل کئی ہفتوں کے رجحان سے سامنے آتی ہے۔ اگر آنے والے ہفتوں میں ذخائر میں اضافے کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو یہ بیرونی ادائیگیوں کی پوزیشن کے لیے مثبت اشارہ ہوگا، جبکہ کمی کی صورت میں درآمدی ادائیگیوں اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے اگلے ہفتوں کے اعداد و شمار کو خاص اہمیت دی جائے گی۔

اسٹیٹ بینک ہر ہفتے ذخائر کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے، جن میں مرکزی بینک اور کمرشل بینکوں کے ذخائر کی الگ الگ تفصیل دی جاتی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی ذخائر 26.86 ارب ڈالر سے زائد ہیں، جو بیرونی ادائیگیوں کے لیے دستیاب وسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ذرائع: ڈان، ٹریبیون