مرکزی مواد پر جائیں
بدھ، 4 نومبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

پاکستان کا پہلا مقامی فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ‘فاز’ کامیابی سے آزما لیا گیا

راولپنڈی، 4 نومبر 2026ء — پاکستان نے منگل کے روز مقامی طور پر تیار کردہ پہلے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ‘فاز’ کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کر لیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس آزمائش کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کامیابی ملک کی فضائی اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ‘فاز’ جدید ترین ٹرمینل گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے، جس کی مدد سے یہ طویل فاصلے پر دشمن کے فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ میزائل پاک فضائیہ کی آپریشنل لچک میں نمایاں اضافہ کرے گا اور ملک کی مجموعی دفاعی پوزیشن کو مزید مضبوط بنائے گا۔ آئی ایس پی آر نے اس کامیابی کو پاکستان کی دفاعی صنعت کی تکنیکی پختگی، جدت اور خود انحصاری کا ثبوت قرار دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس کامیاب تجربے کا مشاہدہ مسلح افواج کے سینئر افسران کے ساتھ ساتھ اس جدید ہتھیاروں کے نظام کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے ممتاز سائنسدانوں اور انجینئرز نے کیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سروسز چیفس نے اس کامیابی پر سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی ہے۔

آئی ایس پی آر نے تجربے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے، جس میں میزائل کو جے ایف 17 لڑاکا طیارے سے فائر کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم فوجی ترجمان نے میزائل کی زیادہ سے زیادہ رینج، رفتار اور دیگر تکنیکی خصوصیات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، اور یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ ‘فاز’ کو پاک فضائیہ کے آپریشنل بیڑے میں باقاعدہ طور پر کب شامل کیا جائے گا۔ اس لیے اس وقت میزائل کی مخصوص رینج یا کسی دوسرے میزائل سے موازنے کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ تجربہ گزشتہ ماہ کیے گئے دو زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کے کامیاب تجربوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ 13 اکتوبر کو فتح-2 کے توسیعی رینج والے ہائپر سونک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا، جبکہ اس سے تقریباً ایک ہفتہ قبل فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کے مقامی طور پر تیار کردہ توسیعی ورژن کا تجربہ ہوا تھا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق ‘فاز’ کے ماڈل اس سے قبل 2023 میں استنبول میں منعقدہ دفاعی نمائش میں پیش کیے گئے تھے۔

فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل کسی بھی فضائیہ کے لیے بنیادی ہتھیار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے لڑاکا طیارے دشمن کے طیاروں کو فضا میں ہی نشانہ بناتے ہیں۔ اس شعبے میں مقامی میزائل کی تیاری کو دفاعی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اب صرف زمینی میزائلوں ہی نہیں بلکہ فضائی ہتھیاروں کے نظام میں بھی مقامی مہارت حاصل کر رہا ہے۔

ذرائع: ڈان، جیو، ایکسپریس ٹریبیون، عرب نیوز، اردو پوائنٹ