اسلام آباد، 26 اکتوبر 2026ء — اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کے روز اپنی کلیدی شرح سود (پالیسی ریٹ) میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک میں شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہو گئی ہے۔ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے آج ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا، جس کا اعلان گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
یہ شرح سود میں اپریل 2026ء کے بعد پہلی تبدیلی ہے۔ اپریل میں مرکزی بینک نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 11.5 فیصد تک پہنچایا تھا، جو تقریباً تین برس میں پہلا اضافہ تھا۔ اس کے بعد 14 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ آج کے فیصلے کے ساتھ یہ سلسلہ ٹوٹ گیا ہے اور شرح سود ایک بار پھر اوپر کی طرف بڑھ گئی ہے۔
مرکزی بینک کے اس فیصلے کی بنیادی وجہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور رسد کی زنجیروں میں خلل نے مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی اب بھی اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدتی ہدف سے کافی اوپر ہے۔ اگست 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.1 فیصد رہی، جو جولائی کے 9.2 فیصد سے زیادہ تھی، جبکہ ستمبر میں یہ کچھ کم ہو کر 10.26 فیصد پر آ گئی — تاہم یہ اب بھی ہدف کی حد سے باہر ہے۔
یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق رہا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اس اضافے کو اپنی توقعات کے مطابق قرار دیا ہے۔ اجلاس سے قبل کیے گئے ایک سروے میں 61 فیصد شرکاء نے شرح سود میں اضافے کی توقع ظاہر کی تھی، جن میں سے 54 فیصد کا خیال تھا کہ اضافہ 50 بیسز پوائنٹس کا ہوگا۔ اس طرح مرکزی بینک نے وہی قدم اٹھایا جس کی اکثریت توقع کر رہی تھی۔
شرح سود میں اضافے کا براہ راست اثر قرضوں کی لاگت پر پڑتا ہے۔ کاروباروں اور عام صارفین کے لیے نیا قرض مہنگا ہو جاتا ہے، جبکہ فلوٹنگ ریٹ سے منسلک قرضوں کی قسطوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف سخت مانیٹری پالیسی کا مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا اور مہنگائی کی توقعات کو مستقل طور پر بڑھنے سے روکنا ہے، تاکہ قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر مزید بوجھ نہ بنے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو اسٹیٹ بینک نے 2024ء کے وسط سے اب تک شرح سود میں مجموعی طور پر 1,050 بیسز پوائنٹس کی کمی کی تھی، جب جون 2023ء میں شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی۔ اس کے بعد مہنگائی میں کمی کے ساتھ شرح سود بتدریج نیچے آئی، لیکن اپریل 2026ء سے اس کا رخ دوبارہ اوپر کی طرف مڑ گیا۔ گزشتہ اجلاس میں مرکزی بینک نے مالی سال 2026-27ء کے لیے معاشی نمو کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد لگایا تھا۔
ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، نکٹا

