منظر نقوی
اداریہ: مغربی ایشیا کو جنگ نہیں، سفارت کاری کی ضرورت ہے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود کے درمیان ہونے والی حالیہ ٹیلی فونک گفتگو خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایک نہایت اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی حالات، کشیدگی میں کمی اور استحکام کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ایسے وقت میں جب مغربی ایشیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا ہے، تہران اور ریاض کے درمیان رابطہ نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے ناگزیر بھی ہے۔
امریکہ اور اسرائیلی رجیم کی جانب سے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی جارحیت نے پورے خطے کو ایک نئی آزمائش میں ڈال دیا۔ یہ تنازعہ 40 روز تک جاری رہا اور بالآخر پاکستان کی ثالثی سے 7 اپریل کو جنگ بندی ممکن ہوئی۔ تاہم یہ جنگ بندی زیادہ دیر پائیدار ثابت نہ ہوسکی کیونکہ امریکہ نے بعد ازاں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے بعد ایران سے وابستہ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس اقدام نے نہ صرف خطے میں دوبارہ کشیدگی کو ہوا دی بلکہ عالمی امن اور توانائی کی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کیے۔
آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ دنیا کے تیل اور توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی فوری طور پر تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت، خوراک کی قیمتوں اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو متاثر کرتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی مہنگائی، بیرونی قرضوں اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، کسی نئے علاقائی بحران کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف ایران، امریکہ یا اسرائیل کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن اور معاشی استحکام کا مسئلہ ہے۔
سعودی عرب کا کردار اس موقع پر نہایت اہم ہے۔ ریاض عرب دنیا اور مسلم امہ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ دونوں اہم مسلم ممالک باہمی اختلافات کو کم کرکے خطے کو ایک نئے مثبت دور کی طرف لے جائیں گے۔ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب کی سفارتی سرگرمی خطے کو بڑی جنگ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ تہران اور ریاض اگر مسلسل رابطے میں رہیں تو بیرونی طاقتوں کے لیے خطے کو اپنی جنگی حکمت عملی کا میدان بنانا مشکل ہوجائے گا۔
ایران نے بھی موجودہ بحران کے دوران سفارتی رابطوں کو جاری رکھ کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خطے کو مکمل جنگ کی طرف دھکیلنا نہیں چاہتا۔ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ اس کی خودمختاری، سلامتی اور قومی وقار کا احترام کیا جائے۔ کسی بھی آزاد ریاست کے خلاف جارحیت، ناکہ بندی یا یکطرفہ فوجی اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ خطے کے تمام ممالک کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے تحفظات اور خدشات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں تاکہ غلط فہمیاں جنگ میں تبدیل نہ ہوں۔
امریکہ کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے استعمال سے مغربی ایشیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کی امریکی مداخلتوں نے اس خطے کو استحکام کے بجائے بدامنی، تباہی، بے گھری اور انتہا پسندی دی ہے۔ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں نے بھی خطے میں امن کی ہر کوشش کو کمزور کیا ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی امن چاہتا ہے تو اسے دھمکی، ناکہ بندی اور فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات، احترامِ خودمختاری اور عالمی قانون کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔
پاکستان کی ثالثی سے 7 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا کے اندر سے ذمہ دارانہ سفارت کاری مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔ پاکستان نے ایک متوازن اور پرامن کردار ادا کرتے ہوئے یہ دکھایا کہ جنگ کے شعلوں کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جاسکتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکی، چین اور دیگر ذمہ دار ممالک ایک وسیع سفارتی فریم ورک تشکیل دیں جس میں جنگ بندی کی ضمانت، بحری راستوں کا تحفظ، انسانی بنیادوں پر تعاون اور مستقل مذاکرات کا نظام شامل ہو۔
عباس عراقچی اور فیصل بن فرحان کے درمیان رابطہ محض ایک رسمی سفارتی گفتگو نہیں بلکہ ایک ایسے وقت کی ضرورت ہے جب خطہ کسی بھی غلط فیصلے کی بھاری قیمت ادا کرسکتا ہے۔ مغربی ایشیا کو اب ایک ایسے اجتماعی سلامتی کے تصور کی ضرورت ہے جس کی قیادت خطے کے ممالک خود کریں۔ بیرونی طاقتوں نے طویل عرصے سے اس خطے کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ خطے کے ممالک خود فیصلہ کریں کہ ان کا مستقبل جنگ، پابندیوں اور ناکہ بندیوں میں نہیں بلکہ ترقی، تعاون اور امن میں ہے۔
آج سب سے اہم ضرورت تحمل، دانشمندی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مکالمہ جاری رہنا چاہیے کیونکہ یہی مکالمہ پورے خطے کو تباہ کن جنگ سے بچا سکتا ہے۔ مغربی ایشیا کے عوام امن، ترقی اور عزت کے ساتھ جینے کا حق رکھتے ہیں۔ اس حق کو محفوظ بنانے کے لیے اسلحے کی زبان نہیں بلکہ سفارت کاری، باہمی احترام اور علاقائی اتحاد کی زبان اختیار کرنا ہوگی۔ جنگ کا راستہ تباہی کی طرف جاتا ہے، جبکہ مذاکرات ہی خطے کو محفوظ مستقبل دے سکتے ہیں۔


