امریکی بانڈ مارکیٹ میں حالیہ اتھل پتھل کو صرف مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی قرض گیری سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ رائٹرز کے مارکیٹس کالم نگار جیمی میک گیور کے تجزیے کے مطابق طویل مدتی امریکی بانڈز پر دباؤ کی بنیادی وجہ حکومت کے بڑے مالیاتی خسارے، مہنگائی کے خدشات اور سرمایہ کاروں کی جانب سے زیادہ منافع کا مطالبہ ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے 19 اگست 2026 کو طویل مدتی سرکاری قرضوں کی خریداری میں ستمبر کے دوران اضافہ کرنے کا اعلان کیا، تاہم اس اقدام سے مارکیٹ کے بنیادی خدشات ختم نہیں ہوئے۔ 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی شرح منافع حالیہ دنوں میں کئی برس کی بلند سطحوں تک پہنچی، جس سے حکومت کے لیے نئے قرض کا خرچ بڑھ گیا ہے۔
اے آئی قرض کا کردار
اے آئی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، ڈیٹا سینٹر مالکان اور متعلقہ مالیاتی اداروں کی جانب سے بانڈز کا اجرا تیزی سے بڑھا ہے۔ اس اضافی رسد کے باعث سرمایہ کاروں کو سرکاری اور نجی قرضوں میں انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔ کارپوریٹ بانڈز، بالخصوص بڑے ٹیک اداروں کے قرض، اگر زیادہ منافع پیش کریں تو سرمایہ سرکاری بانڈز سے دور جا سکتا ہے اور امریکی حکومت کو اپنے قرض کے لیے زیادہ شرح ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
تاہم رائٹرز کے تجزیے میں زور دیا گیا ہے کہ اے آئی قرض اس بحران کی واحد یا بنیادی وجہ نہیں۔ امریکی حکومت کو پہلے ہی بڑے بجٹ خسارے کی مالی اعانت کے لیے بھاری مقدار میں بانڈز جاری کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور شرح سود کے مستقبل سے متعلق خدشات نے بھی طویل مدتی بانڈز کی طلب کو متاثر کیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں، خصوصاً جاپانی خریداروں، کی امریکی قرض میں دلچسپی کم ہونا بھی مارکیٹ کے لیے اضافی دباؤ بن رہا ہے۔
پاکستان کے لیے اہمیت
امریکی بانڈز عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی شرح منافع بڑھنے سے عالمی قرض کی لاگت، ڈالر کی قدر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرونی قرضوں کی ری فنانسنگ، یورو بانڈز کے اجرا اور ملکی کرنسی پر دباؤ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سرمایہ کار محفوظ اور زیادہ منافع دینے والے امریکی اثاثوں کو ترجیح دیں۔
مجموعی طور پر اے آئی سرمایہ کاری بانڈ مارکیٹ میں نئی رسد ضرور لا رہی ہے، لیکن موجودہ بے چینی کی جڑ امریکی مالیاتی پالیسی، بڑھتے ہوئے سرکاری قرض اور مہنگائی کے بارے میں عالمی سرمایہ کاروں کے خدشات میں ہے۔

