مرکزی مواد پر جائیں
جمعہ، 21 اگست 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

تجزیوں میں پاکستان کے ہائبرڈ نظام کی بڑھتی ہوئی عسکری مرکزیت پر تشویش

تجزیوں میں پاکستان کے ہائبرڈ نظام کی بڑھتی ہوئی عسکری مرکزیت پر تشویش — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

پاکستان کے سیاسی نظام کے بارے میں حالیہ تحقیقی اور صحافتی جائزوں میں اس امر پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ منتخب حکومتوں کی موجودگی کے باوجود ریاستی فیصلہ سازی میں عسکری اداروں کا کردار مزید مضبوط اور باضابطہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس بحث کو عموماً “ہائبرڈ نظام” کہا جاتا ہے، جس میں آئینی طور پر اختیارات منتخب اداروں کے پاس ہوتے ہیں، مگر اہم سیاسی، سلامتی اور خارجہ پالیسی معاملات میں غیر منتخب قوتوں کا اثر فیصلہ کن رہتا ہے۔

جرنل آف ڈیموکریسی میں اپریل 2026 میں شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق 2018 کے بعد پاکستان کا سیاسی بندوبست ایسا ہائبرڈ نظام بن گیا ہے جس میں حتمی اختیار فوجی قیادت کے پاس ہے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ بندوبست کمزور ہونے کے بجائے مزید مرکزیت اور ادارہ جاتی مضبوطی کی طرف گیا۔ اس عمل میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف کارروائیوں، 2024 کے انتخابات سے متعلق تنازعات، عدالتی اصلاحات اور فوجی کمان کے ارتکاز کو اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔

ڈان کی یکم جنوری 2026 کی رپورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کی جمہوری جائزہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ 2025 میں سلامتی پر مبنی حکمرانی نے جمہوری اداروں اور انتظامی فیصلوں پر اثر بڑھایا۔ رپورٹ کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل جیسے ہائبرڈ اداروں کا دائرہ وسیع ہوا، بعض سویلین عہدوں پر حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسران کی تعیناتی ہوئی، جبکہ پارلیمانی نگرانی محدود رہی۔

کارنیگی اینڈومنٹ کے مئی 2026 کے تجزیے میں بھی کہا گیا کہ فوجی قیادت نے آئینی اور قانونی تبدیلیوں کے ذریعے اپنے کردار کو زیادہ باضابطہ بنانے کی کوشش کی۔ اس تجزیے کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم نے فوجی کمان کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کیں، جبکہ عدالتی اصلاحات نے اعلیٰ عدلیہ کی خودمختاری سے متعلق سوالات پیدا کیے۔ تاہم تجزیہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اقتدار کا استحکام صرف ادارہ جاتی کنٹرول سے نہیں بلکہ معیشت، داخلی سلامتی، سیاسی اختلافات اور عوامی قبولیت سے بھی وابستہ ہے۔

جرمن ادارے برتلسمان فاؤنڈیشن کی بی ٹی آئی 2026 رپورٹ نے پاکستان کو سیاسی آزادیوں، اظہار رائے، عدالتی اختیارات اور انتخابی عمل سے متعلق خدشات کے تناظر میں آمرانہ نظام کے زمرے میں رکھا ہے۔ ان جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں اصل چیلنج صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ سویلین بالادستی، پارلیمانی نگرانی، آزاد عدلیہ اور قابلِ اعتماد انتخابات جیسے ادارہ جاتی اصولوں کی بحالی ہے۔