کراچی: نوجوان کاروباری میر رضا علی کے قتل کی تفتیش کے معاملے پر ان کے والدین نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ خود پیش رفت کی نگرانی کریں اور پولیس کو قانون کے مطابق تحقیقات مکمل کرنے کا موقع دیا جائے۔ خاندان نے پہلے سے قائم تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطح پر تشکیل دی گئی نئی ٹیم سے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی میں لاپتا ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے علاقے میں جھاڑیوں سے ملی۔ ابتدائی طور پر پولیس تفتیش میں خودکشی کے امکان پر بھی غور کیا گیا، تاہم خاندان کا مؤقف ابتدا ہی سے یہ تھا کہ میر رضا کو اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا۔ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی اور تفتیش کا رخ تبدیل ہوا۔
سندھ حکومت نے معاملے کی شفافیت کے لیے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم میر رضا کے وکیل جبراں ناصر کے مطابق والدین نے عدالتی کمیشن کی تجویز مسترد کرتے ہوئے پولیس تحقیقات جاری رکھنے کی درخواست کی۔ خاندان نے مؤقف اختیار کیا کہ نئی پولیس ٹیم کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے دیا جائے اور والدین کو ہر مرحلے پر پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے۔
اس سے قبل میر رضا کے والد میر حسین نے کہا تھا کہ وہ ایسی نئی تفتیشی ٹیم قبول کریں گے جو سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل یا وزیراعلیٰ سندھ کی سطح پر تشکیل دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کو تفتیش کے دوران خودکشی کے امکان پر زور دیے جانے اور پیش رفت سے مناسب طور پر آگاہ نہ کیے جانے پر تحفظات ہیں۔
سندھ پولیس نے پرانی ٹیم ختم کرکے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کرائم اینڈ انویسٹی گیشن امیر فاروقی کی سربراہی میں پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے۔ پولیس کے مطابق نئی ٹیم طبی شواہد، ڈیجیٹل مواد، جائے وقوعہ اور دیگر دستیاب ریکارڈ کا ازسرنو جائزہ لے گی۔ کراچی پولیس نے مقدمے کی تفتیش زمان ٹاؤن تھانے منتقل کرتے ہوئے بعض افسران کو جائے وقوعہ محفوظ نہ رکھنے اور مناسب کرائم سین تحقیقات نہ کرنے پر معطل بھی کیا ہے۔
عدالت نے تفتیشی حکام کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 24 اگست 2026 تک مہلت دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ ابھی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا، اس لیے کسی فرد پر الزام شواہد کے بغیر عائد نہیں کیا جا سکتا۔ خاندان اور شہری حلقے شفاف، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد تحقیقات کے ذریعے واقعے کے ذمہ داروں کے تعین اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

