کراچی: نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کیس میں مقتول کے والد کے وکیل جبران ناصر نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خط لکھ کر تفتیش کی براہِ راست نگرانی اور سابقہ تحقیقاتی ٹیم کے کردار کی محکمانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پولیس کی نئی ٹیم کے باوجود کیس میں کوئی بڑا فیصلہ کن پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔
جبران ناصر کے مطابق اہل خانہ کو خدشہ ہے کہ نئی تفتیش بھی قتل کے بجائے خودکشی کے سابقہ مفروضے کے گرد گھوم رہی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ سابقہ تحقیقاتی ٹیم کی مبینہ غفلت، شواہد سے متعلق بے ضابطگیوں اور تفتیشی ریکارڈ میں ممکنہ تبدیلیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
خط میں بعض پولیس افسران کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ افسران کو تحقیقات مکمل ہونے تک حساس عہدوں سے ہٹایا جائے تاکہ شواہد کے تحفظ اور تفتیش کی غیر جانب داری کو یقینی بنایا جاسکے۔ تاہم ان الزامات پر پولیس یا نامزد افسران کا مؤقف فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔
تفتیش پر اہل خانہ کے تحفظات
وکیل کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم کے بعد حاصل ہونے والے شواہد بروقت فرانزک تجزیے کے لیے نہیں بھیجے گئے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مختلف سی سی ٹی وی مناظر میڈیا کو منتخب انداز میں فراہم کیے گئے، جبکہ اہل خانہ کو تفتیشی پیش رفت سے مکمل طور پر آگاہ نہیں رکھا گیا۔ ان کے بقول بعض افراد پر خودکشی کا مؤقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام بھی سامنے آیا ہے، جس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز گلستانِ جوہر کے علاقے سے ان کی لاش ملی تھی۔ ابتدائی تفتیش میں واقعے کو خودکشی قرار دینے کی بات سامنے آئی، تاہم قبرکشائی کے بعد ہونے والے نئے پوسٹ مارٹم میں بتایا گیا کہ انہیں پشت سے گولی ماری گئی اور جسم پر متعدد زخم بھی موجود تھے۔ ان نتائج کے بعد قتل کی دفعہ مقدمے میں شامل کی گئی اور سندھ پولیس نے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔
سندھ حکومت نے شفافیت کے لیے عدالتی تحقیقات کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم بعد میں وزیر داخلہ سندھ کے مطابق مقتول کے اہل خانہ کی درخواست پر اس فیصلے کو مؤخر کردیا گیا، کیونکہ خاندان نے نئی پولیس ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ خاندان کو تفتیش کے ہر مرحلے سے آگاہ رکھا جائے گا۔
پولیس اب کیمیائی، ڈی این اے اور دیگر فرانزک رپورٹس کی مزید وضاحت کا انتظار کر رہی ہے۔ عدالت نے تحقیقاتی حکام کو 24 اگست تک پیش رفت مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مقدمے کا آئندہ رخ فرانزک شواہد، ڈیجیٹل آلات کے تجزیے اور نئی ٹیم کی تحقیقات سے واضح ہوگا۔

