کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تقرری کے خلاف دائر درخواست ابتدائی مرحلے پر ہی ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئینی اختیار کے تحت ہائیکورٹ انتظامیہ کے پالیسی فیصلوں کے خلاف اپیل کا فورم نہیں بن سکتی، تاہم متعلقہ اداروں کو قانون اور مقررہ طریقہ کار کی پابندی کرنا ہوگی۔
یہ درخواست جے ایس ایم یو کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر میمونہ رحمان نے دائر کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ سندھ کابینہ نے ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل انہیں مزید تین برس کے لیے دوبارہ ملازمت دینے کی ہدایت کی، حالانکہ گائنی اور آبسٹیٹرکس کے شعبے میں پروفیسر کی آسامی پہلے ہی مشتہر ہوچکی تھی اور تقرری کا عمل جاری تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اس اقدام سے ان کی موکلہ کے ترقی کے امکانات اور جائز توقعات متاثر ہوسکتی ہیں۔
عدالت کی اہم وضاحت
جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ نے واضح کیا کہ 5 اگست 2026 کا کابینہ فیصلہ ڈاکٹر نگہت شاہ کو براہِ راست پروفیسر مقرر نہیں کرتا تھا بلکہ متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق ان کی تقرری پر غور کرنے کی ہدایت دیتا تھا۔ عدالت کے مطابق اس فیصلے سے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی ایکٹ 2013، یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط یا بھرتی کے قانونی تقاضے ختم نہیں ہوتے۔
بینچ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت انتظامی یا حکومتی پالیسی کے فیصلے میں اس وقت تک مداخلت نہیں کرسکتی جب تک واضح قانونی خلاف ورزی، دائرہ اختیار سے تجاوز یا بدنیتی ثابت نہ ہو۔ عدالت نے موجودہ معاملے میں کابینہ کے فیصلے میں بادی النظر میں ایسی بدنیتی یا دائرہ اختیار کی خرابی نہیں پائی۔
عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی متعلقہ ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری طبی ادارے ضرورت کے تحت ریٹائرڈ فیکلٹی کو کنٹریکٹ پر برقرار رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسا اقدام ادارے کی ضرورت، متعلقہ قانون اور مقررہ طریقہ کار سے مشروط ہوگا۔ اس عمل سے یونیورسٹی میں پہلے سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کی ترقی یا سنیارٹی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
یوں درخواست خارج ہونے کے باوجود عدالت نے دوبارہ تقرری کو غیر مشروط منظوری نہیں دی۔ ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری سے متعلق آئندہ کارروائی جے ایس ایم یو کو قانونی تقاضوں اور بھرتی کے ضابطے کے مطابق مکمل کرنا ہوگی۔

