مرکزی مواد پر جائیں
منگل، 25 اگست 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان، کراچی

گل پلازہ آتشزدگی کیس: سندھ حکومت نے سول ڈیفنس کے دو افسران برطرف کر دیے

گل پلازہ آتشزدگی کیس: سندھ حکومت نے سول ڈیفنس کے دو افسران برطرف کر دیے — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

کراچی: سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کیس میں سول ڈیفنس کے دو افسران کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردہ احکامات کے مطابق یہ کارروائی فائر سیفٹی آڈٹ میں غفلت، فرائض سے کوتاہی اور مبینہ طور پر پچھلی تاریخوں میں رپورٹس تیار کرنے کے الزامات کی محکمانہ تحقیقات کے بعد کی گئی۔

برطرف کیے جانے والے افسران میں سول ڈیفنس ساؤتھ کی ایڈیشنل کنٹرولر فاطمہ میمن اور کراچی ساؤتھ کے سینئر انسٹرکٹر مرزا مرسلین بیگ شامل ہیں۔ دونوں افسران کو فوری طور پر ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے، جبکہ کارروائی سندھ سول سرونٹس ڈسپلن رولز کے تحت عمل میں لائی گئی۔

محکمہ داخلہ کے مطابق گل پلازہ کا سال 2024 اور 2025 کے دوران مطلوبہ فائر سیفٹی آڈٹ نہیں کرایا گیا۔ اس کے علاوہ عمارت میں موجود حفاظتی خامیوں کی نشاندہی اور ان کے ازالے کو یقینی بنانے میں بھی متعلقہ حکام ناکام رہے۔ تحقیقات میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ 17 جنوری 2026 کو عمارت میں آگ لگنے کے بعد 2024 اور 2025 سے متعلق فائر سیفٹی رپورٹس پچھلی تاریخوں کے ساتھ تیار یا تبدیل کی گئیں۔

محکمانہ کارروائی کے دوران دونوں افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور ذاتی سماعت کا موقع بھی دیا گیا۔ تاہم حکام کے مطابق وہ اپنے دفاع میں ایسے قابل قبول شواہد پیش نہیں کر سکے جن سے الزامات ختم ہو جاتے۔ کارروائی گل پلازہ سانحے کی وجوہات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے قائم حکومتی عملدرآمدی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر کی گئی۔

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری کو لگنے والی تباہ کن آگ نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کیا تھا۔ عمارت میں کپڑے، پلاسٹک، کاسمیٹکس اور دیگر آتش گیر سامان موجود ہونے کے باعث آگ تیزی سے پھیلی، جبکہ امدادی کارروائیوں اور عمارت کے حفاظتی انتظامات پر بھی سوالات اٹھے۔ سرکاری اور عدالتی تحقیقات میں عمارت کی ساخت، ہنگامی اخراج کے راستوں، فائر سیفٹی نظام اور مختلف متعلقہ اداروں کی نگرانی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حکام کی برطرفی گل پلازہ سانحے کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے ذمہ داری طے کرنے کے سلسلے میں اب تک کا نمایاں انتظامی اقدام ہے۔ تاہم متاثرین اور شہری حلقے عمارت کی منظوری، حفاظتی معائنوں، تجاوزات، ہنگامی رسپانس اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار پر مزید شفاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔