وفاقی کابینہ نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ڈیلرز مارجن میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس جمعرات 20 اگست 2026 کو ہوا، جس میں اقتصادی، سیاسی، سکیورٹی اور قانون سازی سے متعلق متعدد امور کا جائزہ لیا گیا۔
کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 14 اگست کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ڈیلرز مارجن 8.64 روپے سے بڑھا کر 9.98 روپے فی لیٹر کرنے کی منظوری دی۔ یہ اضافہ یکم ستمبر 2026 سے نافذ ہوگا۔ حکومت نے یہ فیصلہ ایسے وقت کیا جب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دی تھی۔ اضافے کی منظوری کے بعد ایسوسی ایشن نے احتجاج مؤخر کر دیا۔
ڈیلرز نے مقررہ مارجن کے بجائے پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمت کے ساتھ منسلک متغیر مارجن کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم حکومت نے اس مطالبے کے بجائے مقررہ مارجن میں اضافہ منظور کیا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن فی الحال 7.87 روپے فی لیٹر برقرار ہے، جبکہ ان کے مارجن میں ممکنہ اضافے کو ڈیجیٹلائزیشن کے اہداف سے مشروط رکھا گیا ہے۔
اہم قانون سازی کی منظوری
اجلاس میں دفاعی شعبے سے متعلق دو مسودہ قوانین کی بھی منظوری دی گئی۔ ان میں دفاعی افواج ایکٹ 2026 اور قومی کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم شامل تھی۔ حکومت کے مطابق یہ ترامیم آئین میں کی گئی حالیہ تبدیلیوں کے بعد دفاعی کمان کے نئے انتظامی ڈھانچے سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے ضروری تھیں۔ بعد ازاں دونوں بل پارلیمان کے ایوانوں سے بھی منظور کر لیے گئے۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ حکومت بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے۔ کابینہ نے ملکی سیاسی صورتحال، داخلی امن و امان اور علاقائی حالات پر بھی غور کیا۔
نوجوانوں کے لیے قومی پالیسی
وفاقی کابینہ نے قومی نوعمر و نوجوان پالیسی کی اصولی منظوری بھی دی۔ پالیسی کے بنیادی ستون تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحول قرار دیے گئے ہیں۔ اس کے نفاذ کے لیے پاکستان یوتھ ڈویلپمنٹ کونسل اور وفاقی نوعمر و نوجوان ایجنسی کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق پالیسی کی تیاری کے دوران ملک بھر میں 32,145 سروے کیے گئے اور دو لاکھ سے زائد نوجوانوں کی آرا شامل کی گئیں۔

