ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ملک کو ایک نئی جنگ کا سامنا کرنا پڑا تو ایرانی افواج کے ہتھیار ماضی کے مقابلے میں زیادہ جدید اور تباہ کن ہوں گے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
محبی کے مطابق ایران نے حالیہ جنگی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی صلاحیتوں میں بہتری پیدا کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ میزائلوں کی درستگی، مار کرنے کی صلاحیت اور وارہیڈز کی تباہ کن طاقت میں اضافہ کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے کسی نئے میزائل کا نام، رینج، تعداد یا تکنیکی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایران کی میزائل پیداوار جاری ہے اور ملک کے میزائل ذخائر ختم نہیں ہوئے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق حالیہ تنازع نے دفاعی صنعت کو روکنے کے بجائے مقامی پیداوار اور ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی پیدا کی ہے۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔
پاکستان کے لیے علاقائی اہمیت
ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، اس لیے تہران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتوں سے متعلق اعلانات اسلام آباد اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ خلیجی آبناؤں، توانائی کی ترسیل اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی کشیدگی کا اثر پاکستان کی تجارت، سمندری سلامتی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں پر پڑ سکتا ہے۔
ایرانی بیان میں کسی مخصوص ملک کو براہِ راست نشانہ بنانے یا فوری فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ معلومات کی بنیاد پر اسے ہتھیاروں کی صلاحیت سے متعلق سیاسی اور عسکری پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی نئی کارروائی کی تصدیق کے طور پر۔
ایران ماضی میں بھی اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام، زیرِ زمین میزائل مراکز اور ڈرون صلاحیتوں کو دفاعی باز deterrence کا اہم حصہ قرار دیتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد مخالفین کو خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر دفاعی تیاری اور قومی اتحاد کا تاثر مضبوط کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق محبی نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ایرانی میزائلوں میں رہنمائی اور راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیتوں سمیت مزید تکنیکی بہتری لائی گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی عملی سطح، نئے نظاموں کی تعداد اور میدانِ جنگ میں کارکردگی کے بارے میں آزادانہ قابلِ اعتماد اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔

