کراچی: سندھ کی آٹھ سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کی چار سالہ مدت آئندہ چند ماہ میں مکمل ہونے والی ہے، جس کے باعث بیشتر سربراہان نے دوسری مدت کے لیے توسیع حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اس معاملے نے صوبائی حکومت کے لیے جامعات کی آئندہ قیادت کے حوالے سے ایک اہم انتظامی فیصلہ پیدا کردیا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون اور منٹ مرر کی رپورٹس کے مطابق شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی، لاڑکانہ کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نصرت شاہ کی مدت یکم جنوری 2027 کو مکمل ہوگی۔ ذرائع کے مطابق ان کی توسیع سے متعلق سمری وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی جاچکی ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر نصرت شاہ کے معاملے نے ان دیگر وائس چانسلرز کو بھی دوسری مدت کے لیے کوشش پر آمادہ کیا ہے جن کی مدت ختم ہونے والی ہے۔ ان میں اروڑ یونیورسٹی آف آرٹ، آرکیٹیکچر، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج، سکھر کے ڈاکٹر زاہد حسین کھنڈ، شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی کی اربیلہ بھٹو، آئی بی اے سکھر کے ڈاکٹر آصف شیخ، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر طٰہٰ حسین، بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر کی تہمنہ ننگراج اور داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کی ڈاکٹر سمرین حسین شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان میں سے کئی وائس چانسلرز کی مدت جنوری 2027 میں ختم ہوگی، جبکہ ڈاکٹر طٰہٰ حسین کی مدت مارچ 2027 کے وسط میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ دوسری جانب سندھ حکومت نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر امجد سراج میمن کی مدت میں توسیع کی منظوری دے دی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور ڈاکٹر فاروق حسن کی توسیع سے متعلق سمریاں مسترد کی جاچکی ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے لیے نئے وائس چانسلر کی تقرری کا عمل بھی جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت بعض جامعات میں توسیع کے بجائے نئے سربراہان کے انتخاب کو ترجیح دے رہی ہے۔
فیصلوں کی اہمیت
سندھ حکومت سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کی تقرری اور مدت میں توسیع کے معاملات میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ مئی 2026 میں صوبائی کابینہ نے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 62 سے بڑھا کر 65 سال کردی تھی۔ اب توسیع کی درخواستوں پر فیصلے کرتے وقت امیدواروں کی کارکردگی، انتظامی ریکارڈ، تعلیمی نتائج اور جامعات کی مالی و انتظامی صورت حال اہم عوامل ہوں گے۔
حتمی فیصلے سندھ حکومت کی باضابطہ منظوری کے بعد ہی واضح ہوں گے، اس لیے موجودہ اطلاعات کو ذرائع پر مبنی پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے، نہ کہ تمام توسیعات کی حتمی منظوری کے طور پر۔

