مرکزی مواد پر جائیں
بدھ، 2 ستمبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دوبارہ دعوت، ڈیزل 32 روپے سستا

وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دوبارہ دعوت، ڈیزل 32 روپے سستا — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو حکومت کے ساتھ تعمیری مذاکرات کے لیے مل بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں تاکہ ملکی معیشت اور جمہوریت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے یہ بات 20 اگست 2026 کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتی رہی ہے، تاہم اب اپوزیشن کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ تعمیری بات چیت کے لیے کب تیار ہوتی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق شہباز شریف نے سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ باہمی مشاورت سے ملک میں جمہوری عمل اور معاشی سرگرمیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ وزیراعظم کی یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر کمی کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اسے خلیجی خطے کی مشکل صورتحال اور عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والے تعطل کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ پاکستان توانائی کا درآمد کنندہ ملک ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رسد میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی معیشت، ٹرانسپورٹ اور عام صارفین پر پڑتا ہے۔

اس سے ایک روز قبل وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا تھا کہ حکومت کی درخواست پر مقامی آئل ریفائنریوں نے ڈیزل کی قیمت کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ بعد ازاں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 32.63 روپے فی لیٹر کمی کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 395.69 روپے سے گھٹ کر 363.06 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ اسی نظرثانی میں پٹرول کی قیمت میں 2.97 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 337.51 روپے مقرر ہوئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے عالمی توانائی بحران کے اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور علاقائی صورتحال میں بہتری کی امید ہے۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔

کابینہ اجلاس میں حکومت کی معاشی پالیسیوں، آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور نوجوانوں سے متعلق قومی پالیسی پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاشی اقدامات کے نتائج بتدریج سامنے آ رہے ہیں، تاہم ان نتائج کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔