کراچی، 3 نومبر 2026ء — کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں تقریباً 140 سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام آئندہ دو سے تین روز میں شروع ہو جائے گا۔ اس منصوبے پر اندازاً 13 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ میئر نے پیر کے روز کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ان سڑکوں کے ٹینڈر مکمل ہو چکے ہیں اور ورک آرڈر جلد جاری کر دیے جائیں گے۔
میئر کے مطابق رواں مالی سال کے لیے کے ایم سی نے 68 سے 70 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا ہے، اور یہ کام شہر کے تمام سات اضلاع میں بغیر کسی امتیاز کے اپنے وسائل سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے کے بعد کراچی میں ترقیاتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوئی ہیں، اور سڑکوں، پانی، سیوریج، صحت اور صفائی کے منصوبے ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
میئر نے کئی بڑے منصوبوں کی تفصیل بھی دی۔ چکڑ نالہ ایکسپریس وے تقریباً ایک ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہو رہا ہے اور تکمیل کے قریب ہے؛ توقع ہے کہ یہ 30 سے 35 روز میں کھول دیا جائے گا اور اس سے گلستان جوہر کی جانب سفر کرنے والوں کو سہولت ملے گی۔ ناتھا خان کے راستے متبادل سڑک بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے، جبکہ گلستان جوہر کو یونیورسٹی روڈ سے ملانے والی تقریباً نو کلومیٹر طویل ڈبل کیریج وے جنوری تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
گارڈن نشتر روڈ پر تقریباً ایک ارب روپے کی لاگت سے نیا فلائی اوور بنایا جائے گا، جس کا سنگ بنیاد 20 نومبر تک رکھنے اور تعمیر 100 روز میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دیگر سڑکوں میں جہانگیر روڈ، تین ہٹی سے سہراب گوٹھ تک ایس ایم توفیق روڈ، گل بائی شیرشاہ روڈ اور ٹوری بنگش روڈ شامل ہیں؛ پانچ کلومیٹر طویل ٹوری بنگش روڈ کیماڑی اور غربی اضلاع کو ملاتی ہے اور سال کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ 41 بڑی سڑکوں پر اسٹریٹ لائٹس تقریباً ایک ارب روپے کی لاگت سے دو سے ڈھائی ماہ میں تبدیل کی جائیں گی۔
پانی کی فراہمی کے حوالے سے میئر نے بتایا کہ لیاری کے لیے 10 ملین گیلن یومیہ کی کے تھری ایلیویٹڈ پائپ لائن مکمل ہو چکی ہے، جس کی جانچ سات سے آٹھ روز میں کی جائے گی۔ صفائی کے شعبے میں قیوم آباد، شرافی گوٹھ اور گٹر باغیچہ میں تین جدید کوڑا منتقلی اسٹیشن سال کے آخر تک فعال ہو جائیں گے، جبکہ کوڑے کے انتظام پر مجموعی طور پر تقریباً 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ عباسی شہید اسپتال کا نیا بلاک بھی مکمل ہو چکا ہے اور اس میں آئندہ ہفتے کے دوران آؤٹ پیشنٹ خدمات شروع ہو جائیں گی۔
دوسری جانب، میئر کی پریس کانفرنس کے تقریباً ایک گھنٹے بعد سٹی کونسل میں اپوزیشن لیڈر ایڈووکیٹ سیف الدین نے جوابی پریس کانفرنس میں ان دعووں کو چیلنج کیا۔ انہوں نے ترقیاتی فنڈز کے آڈٹ اور نامکمل منصوبوں کی تفصیل کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کے ایم سی کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی کتنی اسکیمیں مکمل ہوئیں اور کتنی ادائیگیوں کے باوجود ادھوری رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض منصوبوں کے معیار پر سنگین سوالات ہیں، جن میں تقریباً 12 ارب روپے کی لاگت سے بننے والی حب کینال بھی شامل ہے، جس میں ان کے بقول افتتاح کے تین روز بعد ہی دراڑیں پڑ گئیں۔ انہوں نے لیاری کی کے تھری پائپ لائن کے ایک حصے کے تنصیب کے دوران گرنے کا بھی ذکر کیا اور منصوبوں کے معیار اور حفاظتی اقدامات کی وضاحت مانگی۔
میئر نے جواب میں کہا کہ کراچی کی ترقی کے ایم سی اور ٹاؤن انتظامیہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ٹاؤنز کو اختیارات اور وسائل کی کمی کا بہانہ بنانے کے بجائے عملی تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بحال شدہ سڑکوں کو دوبارہ کھودنے سے روکنے کے لیے یوٹیلیٹی اداروں کو باہمی مشاورت سے کام کرنا ہوگا اور سڑکوں و فٹ پاتھوں پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع: ڈان، بزنس ریکارڈر

