اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپوزیشن کو ایک بار پھر حکومت کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ جمہوریت مضبوط ہو اور ملکی معیشت کو استحکام ملے۔
وزیراعظم نے یہ بات 20 اگست 2026 کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ سرکاری ریڈیو کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ تعمیری مذاکرات کے لیے مسلسل آمادگی ظاہر کرتی رہی ہے، اب اپوزیشن کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کب مذاکرات کی میز پر آتی ہے۔
وزیراعظم کی تازہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی اختلافات کے باعث پارلیمانی ماحول بدستور کشیدہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سیاسی استحکام معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور جمہوری اداروں کے مؤثر کردار کے لیے ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن حکومت کی پالیسیوں اور سیاسی معاملات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔
معیشت اور جمہوریت پر توجہ
کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے سیاسی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے جولائی میں آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا اور حکومتی امور میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید بڑھانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے تاجروں کے لیے مقررہ ٹیکس اسکیم کے نفاذ کا بھی ذکر کیا اور وفاقی ریونیو بورڈ کو ہدایت دی کہ اس سلسلے میں دکانداروں کو ہراساں نہ کیا جائے۔ اجلاس میں ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر کمی کو بھی عوامی ریلیف کے اقدام کے طور پر اجاگر کیا گیا۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو جون 2026 میں قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران دی گئی پیشکش کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اپوزیشن کے ساتھ میثاقِ معیشت اور میثاقِ جمہوریت کی ضرورت پر زور دیا تھا، تاکہ اہم قومی معاملات پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔
تاہم، تازہ دعوت کے بعد اپوزیشن کا باضابطہ ردِعمل اور مذاکرات کے لیے ممکنہ طریقۂ کار فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بات چیت کی کامیابی کا انحصار ایجنڈے، نمائندگی اور فریقین کے باہمی اعتماد پر ہوگا۔

