کراچی: سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے عہدہ صدارت پر رہتے ہوئے سندھ کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بیان 24 اگست 2026 کو کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا، جس میں صوبے کی انتظامی ساخت، بلدیاتی اختیارات اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر اظہار خیال کیا گیا۔
ناصر حسین شاہ کے مطابق سندھ حکومت بلدیاتی نظام کو مزید بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مقصد اختیارات اور فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لانا ہے تو یہ کام موجودہ آئینی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نئے صوبوں کے مطالبے کے تناظر میں سوال اٹھایا کہ اسلام آباد میں خود بلدیاتی نظام موجود نہیں، اس کے باوجود وفاقی سطح پر نئے صوبوں کی بات کیسے کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے سندھ کی وحدت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور پارٹی صوبے کو متحد رکھنے کے لیے کسی بھی عہدے یا سیاسی مفاد کی قربانی دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت کے اہم آئینی عہدے دار سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے پارٹی کی ترجیح سندھ کی یکجہتی ہے۔
بحث کا تازہ پس منظر
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب سندھ میں نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ سندھ اسمبلی نے 3 ستمبر کی کارروائی کے بعد 4 ستمبر کو ایک قرارداد منظور کی، جس میں صوبے کو تقسیم کرنے، اس کی حدود تبدیل کرنے یا اس کے کسی حصے کو الگ وفاقی انتظامی بندوبست کے تحت دینے کی تجاویز مسترد کی گئیں۔
قرارداد کے مطابق صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے منتخب صوبائی اسمبلی کی رضامندی ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی اسمبلی میں کہا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ تاہم متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور جماعت اسلامی کے ارکان نے قرارداد میں انتظامی یونٹس، بااختیار بلدیاتی اداروں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے متعلق تجاویز شامل نہ کیے جانے پر احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
ناصر حسین شاہ نے بعد میں بھی مؤقف دہرایا کہ انتظامی اصلاحات اور صوبوں کی تقسیم دو الگ معاملات ہیں۔ ان کے مطابق نئے اضلاع، ڈویژن اور تحصیلیں قائم کرنے کے ساتھ بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنا کر شہری سہولتوں اور حکمرانی میں بہتری لائی جا سکتی ہے، جبکہ صوبے کی حدود یا آئینی حیثیت تبدیل کرنا محض انتظامی ضرورت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
- مرکزی مؤقف: سندھ کی وحدت اور موجودہ آئینی حدود برقرار رہنی چاہییں۔
- حکومتی راستہ: بلدیاتی اداروں کو اختیارات، نئے انتظامی یونٹس اور بہتر عوامی خدمات۔
- سیاسی اختلاف: اپوزیشن جماعتیں سندھ کی تقسیم کی مخالف ہیں، مگر انتظامی اختیارات کی منتقلی کے طریقہ کار پر اختلاف رکھتی ہیں۔

